ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں بی جے پی کی ہار کے ساتھ ہی جنوبی ہند ہوگیا’بی جے پی مُکت‘، پارلیمانی الیکشن کیلئے بھی بی جے پی کی راہ ہوگئی مشکل

کرناٹک میں بی جے پی کی ہار کے ساتھ ہی جنوبی ہند ہوگیا’بی جے پی مُکت‘، پارلیمانی الیکشن کیلئے بھی بی جے پی کی راہ ہوگئی مشکل

Sun, 14 May 2023 11:43:00    S.O. News Service

بنگلور و، 14/مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں بی جے پی کی  ہا ر کے ساتھ ہی جنوبی ہند بی جے پی مکت ہو گیا ہے۔ زعفرانی پارٹی چاہتی تھی کہ  کرناٹک کو جنوب کی دوسری ریاستوں میں قدم جمانے کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جائے ، حجاب ، حلال، ٹیپو اور لو جہاد جیسے موضوعات کا سہارا لے کر اس نے اس کی شروعات بھی کر دی تھی مگر کرناٹک کے عوام نے اسے جس طرح مسترد کیا ہے اس سے جنوبی ہند میں اس کی پیش رفت یقینی طور پر متاثر ہوگی۔ یہ زعفرانی پارٹی کیلئے دہری مار کے مصداق ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے پارلیمانی الیکشن میں اس کی راہیں محدود ہو جائیں گی۔

ایسے وقت میں جبکہ2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں زعفرانی پارٹی نے یوپی ،  بہار ،مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور  راجستھان میں  ہرممکن کوشش کرکے پارلیمانی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ، مگر اب اگلے سال  2024ء کے پارلیمانی الیکشن میں سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا  تو دور کی بات، جتنی سیٹیں ہیںِ اُس میں  بھی  کمی کا اندیشہ ہے۔ اسی اندیشے سےنمٹنے اور مذکورہ شمالی ہند سمیت بی جے پی کے غلبے والی ریاستوں میں ہونے والے ممکنہ نقصان کی بھرپائی کیلئے زعفرانی پارٹی جنوبی ہند کو پُر امید نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ جنوبی ہند کو بھی کبھی حلال  کبھی حجاب، کبھی ٹیپو   اور کبھی  لو جہادکے نام پر اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے جس رنگ میں شمالی ہندوستان کو رنگا جاچکا ہے مگر کرناٹک کے عوام نے جنوبی ہند میں  تعمیر کئے گئے اس  قلعہ کو کم وبیش مسمار کردیا ہے۔

کرناٹک جنوبی ہند کی واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی اکیلے حکومت سازی میں کامیاب ہو سکی تھی ۔ جنوبی ہند کی دوسری انتظامیہ جہاں وہ اقتدار تک پہنچی وہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) پانڈیچری ہے مگر یہاں وہ اکثریت سے محروم ہے اور اس محاذ کا حصہ ہے جو برسر اقتدار ہے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی طویل عرصے سے اپنی جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہے،دود ہائی تک اسمبلی میں داخلہ بھی نہ پانے کے بعد 2021 ء آل انڈیا انا ڈی ایم کے سے اتحاد کے نتیجے میں اس کے 4 ایم ایل اے  کو وہاں  کامیابی ملی۔ بی جے پی نے حالانکہ اپنی توجہ تمل ناڈو پر بڑھادی ہے مگر اس سے انتخابی  فائدہ حاصل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔

تلنگانہ میں اس نے 2014 ء کی مودی لہر میں5 اسمبلی سیٹیں جیت کر در اندازی ضرور کر لی تھی مگر2018 ء میں یہ تعداد گھٹ کر ایک رہ گئی۔ البتہ 2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں اس نے یہاں بہتر کارکردگی کی اور17 میں سے 4 پارلیمانی نشستیں جیت لیں مگر اب اس کیلئے آسان نہیں ہوگا کیونکہ  کے سی آر کے ساتھ ہی کانگریس نے بھی اپنی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو آگے بڑھا کر زعفرانی پارٹی سے لوہا لینے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ  کرناٹک کی فتح سے  تلنگانہ   کانگریس میں نیا جوش قائم ہوگا۔


Share: